قَدْ جَآ ءَ کُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ
اساتذہ کے تاثرات پروگرام
مکتب رسولؐ کے حوالے سے
مسجد امام جعفر صادقؑ
میں اپنے شہر میں ایک عرصہ دراز سے مکتب چلا رہا ہو۔ کچھ سال پہلے میرے بہت ہی قریبی دوست جو بہت سارے مکاتب کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے مجھے جامعہ تعلیمات اسلامی کے پروگرام مکتب رسولؐ کے حوالے سے کافی معلومات فراہم کی اور مجھے ہدایت کی کہ اس تعلیمی پروگرام میں اپنی دلچسپی ظاہر کریں۔
مکتب سکینہ بنت الحسین
میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتی ہو جس نے مجھے دینی خدمات کے مواقع عطا کیئے میں نے کچھ ماہ قبل ہی اپنے علاقہ میں مکتب کی بنیاد رکھی جسکی وجہ یہ تھی کہ ہمارے علاقہ میں کوئی بھی مکتب نہیں تھا۔ میں خود جامعہ تعلیمات اسلامی کے پروگرام مکتب امام صادقؑ کی طالبہ ہوں اور میں نے مکتب صادقؑ .. تعلیمی پروگرام میں تین سال مکمل کرنے کے بعد عالمہ کی صند حاصل کی ہے۔ اور اب بھی اسی تعلیمی پروگرام میں زیر تعلیم ہوں دو سال کے عرصہ میں مجھے فاضلہ کی صند بھی انشااللہ مل جائے گی۔
مکتب رسول پروگرام
     رہنمائے معلم
‘‘رہنمائے معلم’’
اساتذاساتدۂ کرام کی رہنمائی کے لیے ہے۔ یہ کتاب سوال و جواب کی شکل میں ہے۔ اس کتاب میں ایک تعلیمی سال کے مکمل نصاب کو ماہ بہ ماہ سبق وار ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ایک تعلیمی سیشن کے لیے اُستاد محترم اسے روزانہ کی بنیاد پر خود ترتیب دے سکیں اور ایک سیشن کی مدت میں نصاب مکمل کر اسکیں۔ مثلاََ اگر مہینے میں ۲۵ روز ۵ اسباق کے ۷۵ سوالات پڑھانے ہوں تو
۵
روز میں ایک سبق اور ہر روز ۳ سوالات پڑھائیں۔ اگرسوال مشکل اور اہم ہو تو صرف دو سوالوں کے جواب سکھائیں اور آسان سوال ہوں تو چار سوال کے جواب سکھائیں۔ اسی طرح آپ کوئی بھی ترتیب خود بنالیں تاکہ سیشن کی مدت میں نصاب پورا ہوجائے۔ ضروری ہے کہ جوسبق پڑھانے کے لیے منتخب کریں پہلے ان کے سوالات و جوابات خود پڑھ لیں تاکہ پڑھاتے وقت پُراعتماد ہوں۔
اس کے علاوہ منتخب اسباق کے مشکل الفاظ کے معنیٰ ، ضد اور مترادف الفاظ یاد کرلیں نیز ان مشکل الفاظ سے چار پانچ آسان اور چھو
ٹے جملے بنالیں تاکہ مثالوں کے ذریعے بچوں کو سمجھا سکیں۔ یاد رکھیں
یہ رہنما کتاب صرف استاد کے استفادہ کے لیے چھاپی گئی ہے۔ اس کی مدد سے آپ اچھا پڑھا سکتے ہیں۔  
:یہ کتاب سوال اور جواب کی صورت میں ہے مگر اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بچوں کو رٹا لگوایا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ
 (الف)
بچوں کو اس طرح پڑھایا جائے کہ بات اور اُس کا مفہوم بچوں پر واضح ہوجائے۔
  (ب)
بچوں کو معلوم ہو سکے کہ سالانہ امتحانات میں اُن سے کس طرح کے سوالات پوچھے جائیں گے۔
  (ج)
آپ کا قیمتی وقت بچانا۔ لہٰذا طلباء و طالبات کے ہاتھوں میں درسی کتابیں دیں اور آپ خود ’’ رہنمائے معلم‘‘ سے استفادہ
کرتے ہوئے درج ذیل طریقہ ٔ تدریس کے مطابق پڑھائیں۔
سالانہ امتحان 
تقریبِ انعامات 
طلباء کے تاثرات 
اساتذہ کے تاثرات 
دورہِ مکاتب 
تصویریں  
ویڈیوز